
Question:
Is it prohibited for a woman to make sajdah during haidh? For example, out of Shukr or while making du’a before Allah? Or just out of love for Allah and the desire to worship and be near Him as one cannot read Salaah?
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
In principle it is not permissible for a menstruating woman to perform Ṣalāh or independent Sajdahs, for example, Sajdah of Tilāwah as well as Sajdah of Shukr.[1][2]
However, a menstruating woman may occasionally adopt the posture of Sajdah to make Du’ā or gain proximity to Allāh Ta‘ālā, [3][4] on condition she does not consider making the Sajdah to be a Sunnah practise, nor is there the fear of an onlooker regarding the Sajdah to be a Sunnah practise.
The Fūqahā (jurists) have mentioned that it is Mūstaḥab (encouraged) for menstruating women to make Wudhū at each Ṣalāh time and engage in Dhikr (remembrance) of Allāh Ta‘ālā.[5][6] This will assist them to maintain their Ṣalāh routine and protect them from a spiritual vacuum.
There are also other forms of Ibadāt menstruating women could perform during this period. You may refer to the following article on the Ideal Woman website.[7]
And Allāh Ta‘ālā Knows Best
Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.
[1] البحر الرائق شرح كنز الدقائق[194/1] ط.ايج ايم سعيد كمبني
(قوله: يمنع صلاة وصوما) شروع في بيان أحكامه فذكر بعضها ولا بأس ببيانها، فنقول: إن الحيض يتعلق به أحكام: …
العاشر: يحرم سجود التلاوة والشكر ويمنع صحته.
النهر الفائق شرح كنز الدقائق[130/1] ط.قديمي كتب خانه
يمنع صلاة وصوما فتقضيه دونها
———————————
ولا شك أن منع الشيء منع لأبعاضه ولذا منعت من سجود التلاوة والشكر أيضا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) [267/2] ط.دار الثقافة و التراث / ت.فرفور
ثم ذكر أحكامه بقوله (يمنع صلاة) مطلقا ولو سجدة شكر (وصوما) وجماعا (وتقضيه) لزوما دونها للحرج.
———————————
(قوله مطلقا) أي كلا أو بعضا؛ لأن منع الشيء منع لأبعاضه “نهر” (قوله ولو سجدة شكر) أي أو تلاوة فيمنع صحتهما ويحرمهما “بحر”.
[2] کتاب النوازل [181/3] ط .مکتبہ جاوید دیوبند
حالتِ حیض میں کون کون سی عبادت ممنوع ہے؟
سوال(۱۳۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر عورت حالت حیض میں ہو، تو شبِ برأت میں جاگ کر کوئی بھی عبادت کرسکتی ہے، اگر ہاںتو وضو کرکے کیا تسبیح وغیرہ پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وبالله التوفیق: حالتِ حیض میں مسجد میں جانا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، قرآنِ کریم چھونا اور پڑھنا اور طواف کرنا وغیرہ ممنوع ہے؛ البتہ ذکر واذکار اور تسبیح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[3] الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) [120/2]ط.ايج ايم سعيد كمبني
(قوله لكنها تكره بعد الصلاة) الضمير للسجدة مطلقا. قال في شرح المنية آخر الكتاب عن شرح القدوري للزاهدي: أما بغير سبب فليس بقربة ولا مكروه، وما يفعل عقيب الصلاة فمكروه لأن الجهال يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه انتهى.
وحاصله أن ما ليس لها سبب لا تكره ما لم يؤد فعلها إلى اعتقاد الجهلة سنيتها كالتي يفعلها بعض الناس بعد الصلاة ورأيت من يواظب عليها بعد صلاة الوتر ويذكر أن لها أصلا وسندا فذكرت له ما هنا فتركها ثم قال في شرح المنية: وأما ما ذكر في المضمرات أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال لفاطمة – رضي الله تعالى عنها -: «ما من مؤمن ولا مؤمنة يسجد سجدتين» إلى آخر ما ذكر “. فحديث موضوع باطل لا أصل له.
[4]ماخوذ: احسن الفتاویٰ [26/3]
سجدہ میں دعاء کے متعلق
سجدہ میں دعاء سے مراد نفل نمازوں کے سجدہ میں دعاء کرنا ہے، تہجد ،یا اوابین وغیرہ کے سجدوں میں عربی زبان میں دعاء کی جاسکتی ہے،بہتر یہ ہے کہ احادیث میں وارد شدہ دعائیں کرے۔
مستقل الگ سے سجدہ میں دعاؤں کی بھی اجازت ہے، کبھی کبھی کرے اوراسے عادت نہ بنائے، اس صورت میں زبان عربی کی بھی قید نہیں۔
فقہائے احناف نے نماز کے بعد سجدہ میں جاکر دعاء کو مکروہ لکھا ہے یہ اس وقت ہے جب کہ عادت ہو اور سنت سمجھ کر ہو،کبھی دل میں آیا کرلیا تو مکروہ نہیں۔
آپ کے مسائل اور اُن کا حل: [275/2] ط .کتب خانہ نعیمیہ [333/2] ط. مکتبہ لدھیانوی ۔ فتاویٰ عثمانی: [294/1] ط. کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند
کیا سجدہ میں دعاء مانگنا جائز ہے؟
سجدہ میں دعاء مانگنے میں یہ تفصیل ہے کہ سجدہ یاتو نماز کا ہوگا یا بغیر نماز کا، اگر نماز کا سجدہ ہو تو سجدہ کے اندر دعائیں کرنا جائز ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دعاء نہ صرف عربی زبان میں ہو بلکہ قرآن و حدیث میں جو دعائیں آتی ہے ان کو اختیار کرے (فرض نماز میں امام کو سجدہ میں دعائیں نہیں کرنی چاہئے تاکہ مقتدیوں پر بار نہ ہو)، اور اگر سجدہ نماز کے علاوہ ہو تو لوگوں کے سامنے اور فرض نمازوں کے بعد سجدہ میں گرکر دعائیں نہ کریں، ہاں! تنہائی میں سجدہ میں گر کر دعائیں کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
فتاوی رحیمیہ [242/2]
نماز کے بعد سجدہ میں دعا ء کرنا :
(سوال ۷۶) بعض نمازیوں کی یہ عادت ہے کہ نماز کے بعد سجدہ میں ہاتھ پھیلا کر دعا کرتے ہیں ، اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)دعاء کا عام مسنون طریقہ ہی افضل ہے ، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے سجدہ ٔ مناجات اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے ، اشعۃ اللمعات میں ہے ، سوم سجدۂ مناجات وظاہر کلام اکثر علماء آنست کہ مکر وہ است یعنی تیسر ا سجدۂ مناجات ہے اکثر علماء کے نزدیک مکروہ ہے ۔(اشعۃ اللمعات ج ۱ ص ۶۲۰) شرح سفر السعادۃ میں ہے ودیگر سجدہ ٔ مناجات ست بعد از نماز وظاہر از کلام اکثر آنست کہ ایں مکروہ است (شرح سفر السعادت ص ۱۵۹) فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
[5] البحر الرائق شرح كنز الدقائق [193/1] ط.ايج ايم سعيد كمبني
وأما أئمتنا فقالوا: إنه يستحب لها أن تتوضأ لوقت كل صلاة وتقعد على مصلاها تسبح وتهلل وتكبر وفي رواية يكتب لها ثواب أحسن صلاة كانت تصلي وصحح في “الظهيرية” أنها تجلس مقدار أداء فرض الصلاة كي لا تنسى العادة .
[6] فتاوی حقانیۃ [560/2] ط. جامعہ دار العلوم حقانیۃ
حائضہ عورتیں اوقات نمازمیں ذکر واذکار کومعمول بنائیں
سوال: حالت حیض میں عورت کو نماز پڑھناتو جائز نہیں، کیا ایسی عورت اپنے معمول پر دوام کے لیے اوقات نمازمیں مصلی پر بیٹھ کر تسبیح و تہلیل ، ذکر و اذکارکر سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب :حائضہ عورت کےلے مستحب ہے کہ وہ نماز کے اوقات میں وضو کر کے اپنے مصلی پر آکر بیٹھ جائے اور اتنی دیرتک تسبیح وتحمید، ذکرواذکار میں مشغول رہے جتنے وقت میں یہ عورت نماز پڑھتی تھی تاکہ معمول میں کوئی فرق نہ آئے۔

No Comments
Leave a Reply